پختون بنی اسرائیل کا ایک گمشدہ قبیلہ - PAKWAP https://pakwap.com/ RSS - PAKWAP https://pakwap.com/assets/img/images/logo.png RSS - PAKWAP https://pakwap.com/ admin@pakwap.com (admin) admin@pakwap.com (admin) Sat, 07 Feb 2026 17:51:57 +0500 <strong><br> فارسی میں پشتون ۔ مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان ۔ یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے۔ جن میں افغانستان،پاکستان، بھارت اول نمبر پر ہیں۔ دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا۔ پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ پشتون کی اصلاح عموماً پٹھان اور افغان پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سارے پٹھان ہی کہلاتے ہیں۔ بعض ان میں کافی فرق بھی کرتے ہیں۔اور پٹھان &#039; پشتون اور افغان کو الگ الگ قبیلوں سے تصور کرتے ہیں۔ اور ان ناموں کے وجہ تسمیہ اور تاریخ الگ الگ بیان کرتے ہیں۔ بہرحال میں بحثیت مجموعی ان سب کا تذکرہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ زیادہ تفصیل میں گیا تو بات بہت زیادہ لمبی ہوجائے گی۔ آیئے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو ان کی تاریخ کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔<br> <br> آپ نے قرآن پاک میں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں پڑھا ہوگا کہ ایک موقع پر انہوں نے ایک پتھر پر اپنا عصامارا تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے کہ ہر چشمہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لئے الگ الگ تھا۔ تو تاریخ دان یہاں سے ہی ان کی تاریخ شروع کرتے ہیں۔ اسرائیل کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پشتون یا پٹھان یہودی النسل ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے۔کیونکہ اس وقت جتنے بھی یہودی ہیں وہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے دو قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔جب کہ بقیہ دس اپنا مذہب تبدیل کرچکے ہیں۔ یا ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہورہا۔ ان دس قبائل کو اسرائیل کی تباہی کے بعد فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ پہلے ایران پھر افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے جبکہ جیوش اٹلس میں صوبہ سندھ کی قدیم بندرگاہ دیبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندرگاہ یہودی تاجروں کی بہت بڑا مرکز تھی۔ بنی اسرائیل کے تاجر زمانہ قدیم میں بذریعہ بحری جہاز سندھ اور بلوچستان کی بندرگاہوں پر آتے رہے اس لیئے ان دونوں صوبوں کے بیشتر شہروں اور بندرگاہوں میں یہودیوں کے تجارتی مراکز اور عبادت گاہیں قائم ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پاکستان کے بعض علاقوں میں یہودیت کے ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔<br> <br> تو دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں! اسرائیل میں بارہ قبائل آباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (آج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اب دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے۔ آج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے آنے والے حملہ آوروں نے قبضہ کیا۔ جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یروشلم (موجودہ فلسطین )پر قبضہ کرکے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے۔<br> <br> میرے دلچسپ معلومات کے دوستو !ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں کے مطابق ایتھوپیا میں آباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے۔ پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ خود بعض افغانوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا جبکہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔<br> <br> ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قریش سردار خالد بن ولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ اِن لوگوں کے پاس رسالت کی خبر لے کر آئے اور اس خبر کی تحقیق کے لیئے قیس نامی شخص کی قیادت میں چند سرداروں کا وفد اُن کے ساتھ مکہ روانہ ہو گیا۔ یہ قبائلی سردار بحیثیت مہمان جب مکہ پہنچے تو وہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا ۔جبکہ فتح مکہ کی مہم جوئی میں بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے۔ ان سرداروں کو واپسی پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحفے تحائف بھی دیئے اور اس وفد کے امیر قیس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھ دیا جبکہ اُسے &quot;پہطان &quot;یا&quot; بطان&quot; کا لقب بھی عطاءکیا اور پھر یہی لفظ بگڑ کر پٹھان بن گیا۔<br> <br> افغانوں کی روایات کے مطابق بھی امیر قیس کا نام عبدالرشید خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا اور فرمایا کہ ان کی نسل اسلام پر اس قدر مضبوطی سے کاربند ہوگی کہ جس طرح کشتی کا بطان ہوتا ہے اور پھر یہی لقب بعد میں زبان کے تغیرات کے باعث پٹھان بن گیا جبکہ لفظ پختون کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بخت نصر کے ظلم سے بھاگ کر فارس (ایران) میں پناہ لینے والے قبائل میں سے ایک قبیلے کا نام بنی پخت تھا جس سے تعلق رکھنے والوں کو رفتہ رفتہ پختون کہا جانے لگا۔ اہلِ ایران انہیں افغان کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب بخت نصر نے ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو یہ لوگ اس ظلم کے خلاف آہ فغاں کرتے رہے۔ اور ایک بات یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ کہ افغان سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والدحضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جنات کو کہیں کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں حضرت سل</strong> https://pakwap.com/topics/33?pid=47 پختون بنی اسرائیل کا ایک گمشدہ قبیلہ REHAN Sun, 25 Jan 2026 16:58:55 +0500 Messages https://pakwap.com/topics/33?pid=47