اس پینگوئن کی کہانی بہت عجیب اور تھوڑی اداس ہے، جس کی وجہ سے یہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔
یہ کہانی 2007 کی ایک دستاویزی فلم (Documentary) سے شروع ہوتی ہے جس کا نام "Encounters at the End of the World" ہے۔ اس کے فلم ساز 'ورنر ہرزوگ' (Werner Herzog) تھے۔
اس فلم میں جو دکھایا گیا وہ یہ ہے:
1. راستہ بھٹک جانا
انٹارکٹکا میں پینگوئنز عام طور پر ٹولیوں (Colonies) میں رہتے ہیں۔ وہ یا تو اپنی بستی میں رہتے ہیں یا سمندر کی طرف جاتے ہیں تاکہ مچھلیاں پکڑ کر کھا سکیں۔ لیکن اس دستاویزی فلم میں ایک پینگوئن ایسا نظر آیا جو بالکل الٹی سمت میں چلنا شروع ہو گیا۔
2. موت کا سفر
وہ پینگوئن سمندر کی طرف جانے کے بجائے، انٹارکٹکا کے بیچوں بیچ واقع اونچے پہاڑوں کی طرف چل پڑا۔ ان پہاڑوں کی طرف نہ کھانا ہے اور نہ ہی زندگی کی کوئی امید۔ وہاں صرف برف اور موت ہے۔
3. اکیلا پن اور ضد
فلم ساز بتاتا ہے کہ اگر اس پینگوئن کو پکڑ کر واپس اس کی بستی میں چھوڑ بھی دیا جائے، تو وہ دوبارہ مڑ کر انہی پہاڑوں کی طرف جانا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی بستی کے دوسرے پینگوئنز کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیتا ہے اور اکیلا ایک ایسے سفر پر نکل جاتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔